اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) کی موجودگی کا کوئی مناسب متبادل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیفل کے مینڈیٹ میں توسیع سے انکار کی امریکی کوششیں خطے میں نئی بین الاقوامی فورس کی تشکیل کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، تاہم ایسی کسی بھی فورس کو اقوام متحدہ کے پرچم تلے کام کرنا ہوگا۔
بری نے مشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں بین الاقوامی نگرانی کا بنیادی مقصد لبنانی فوج کی مدد کرنا اور ملک کے تمام علاقوں پر ریاستی خودمختاری کے قیام میں معاونت کرنا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیلی فوج لبنانی سرزمین سے بین الاقوامی سرحدوں تک واپس جائے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے واضح کیا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ معاہدے جنوبی لبنان میں بین الاقوامی فورس کی موجودگی کا متبادل نہیں بن سکتے، خصوصاً اس وقت تک جب اسرائیل ان انتظامات پر عمل درآمد سے گریز کر رہا ہے جن پر فریقین نے امریکی حمایت یافتہ فریم ورک کے تحت اتفاق کیا تھا۔
یونیفل کا موجودہ مینڈیٹ 2026 کے اختتام پر ختم ہونے والا ہے، جس کے باعث اس کے مستقبل کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور فرانس کے درمیان بھی جنوبی لبنان کے لیے آئندہ سکیورٹی انتظامات پر اختلافات پائے جاتے ہیں، جبکہ اسرائیل خطے میں نئے سکیورٹی فارمولے کا خواہاں ہے۔
آپ کا تبصرہ